7 اشعار

اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں

Atne lagi hai saañs ghubar-e-malal mein

اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں

«اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میںاُڑتا ہے برگِ دِل کسی بادِ خیال میں

بھرنی تھیں شب کی ناؤ میں خوابوں کی مچھلیاںاک جل پری اُلجھ گئی پھر میرے جال میں

آئے نہ کیسے جام الُٹ دینے کا خیال!نشّہ نہیں رہا ہے مئے ماہ و سال میں

ڈھوتا ہوں کانِ ہست سے میں کوئلہ تو کیا!چاندی چمک رہی ہے مِرے بال بال میں!

سینے میں ہولی کھیلتی رہتی ہے آرزوآنسو رنگے ہوئے ہیں لہو کے گلال میں

پہنا ہوا ہے صبح نے تنہائی کا لباسلپٹی ہوئی ہے شام اُداسی کی شال میں

بڑھنے لگی عروسِ نگہ یُوں مِری طرفسرگوشیوں کے گُل ہیں، خموشی کے تھال میں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں