اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
کلام: سعید شارق
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میںاُڑتا ہے برگِ دِل کسی بادِ خیال میں
بھرنی تھیں شب کی ناؤ میں خوابوں کی مچھلیاںاک جل پری اُلجھ گئی پھر میرے جال میں
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میںاُڑتا ہے برگِ دِل کسی بادِ خیال میں
بھرنی تھیں شب کی ناؤ میں خوابوں کی مچھلیاںاک جل پری اُلجھ گئی پھر میرے جال میں
سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہےکیا درانتی ہے کہ خود فصل فنا کاٹتی ہے
ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھیاب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے