6 اشعار

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے

Rakhnon mein apni raakh ke reze samo diye

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے

«رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئےمیں نے بھی کتنے دکھ در و دیوار کو دئے

چہروں کی بھیڑ کاٹتی گزری مری نگاہاور آتے آتے اس کے خد و خال کھو دئے

پھر بھی میں تیری یاد نہ کر پایا زیب تنہر چند اس قبا کے سبھی داغ دھو دئے

ٹوٹا پڑا تھا نیند کا دھاگا مری طرحسو میں نے اس میں خواب کے موتی پرو دئے

اپنا بھی غم منایا ترے غم کے ساتھ ساتھاک طاق میں جلانا پڑے مجھ کو دو دئے

پل بھر کو روشنی سی نظر آئی تھی کہ پھراک شب نے میری آنکھوں میں ناخن کھبو دئے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں