6 اشعار

اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں

Ek ek aansoo faqat nazr-e-Muharram kar raha hoon

اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں

«اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوںغمو! ہٹ جاؤ! میں شبّیر کا غم کر رہا ہوں

مرے ہر لفظ پر زنجیرِ گریہ کے نشاں ہیںعزاداری کہاں ہوتی ہے! تاہم، کر رہا ہوں

زبان و لب کو سیرابی کی خواہش ہو بھی کیسے!طلب کم ہو رہی ہے سو رسَد کم کر رہا ہوں

بنا لی چشم سے دل تک عجب کاریز میں نےاور اب اک دشت کو پانی فراہم کر رہا ہوں

بچھا ہے مجھ میں جو فرشِ عزا، اشکوں سے تر ہےبظاہر چُپ ہوں اور اندر سے ماتم کر رہا ہوں

کبھی سر سبز بھی ہو جائے گا یہ دشت، شارقابھی تو دل کی سُوکھی ریت کو نم کر رہا ہوں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں