اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
کلام: سعید شارق
اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوںغمو! ہٹ جاؤ! میں شبّیر کا غم کر رہا ہوں
مرے ہر لفظ پر زنجیرِ گریہ کے نشاں ہیںعزاداری کہاں ہوتی ہے! تاہم، کر رہا ہوں
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوںغمو! ہٹ جاؤ! میں شبّیر کا غم کر رہا ہوں
مرے ہر لفظ پر زنجیرِ گریہ کے نشاں ہیںعزاداری کہاں ہوتی ہے! تاہم، کر رہا ہوں
مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!ذہن میں مکّہ بسایا، دِل مدینہ کر دیا
بادِ طیبہ نے جلا دی اِک نئی شمعِ یقیںاور سیہ پڑتے ہوئے دِل میں اُجالا کر دیا