وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
کلام: سعید شارق
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میںصبح بھی خرچ ہوئی رات کی تیاری میں
کتنی مشکل سے ملی مجھ کو کلید در چشماور اب دیکھا تو کچھ بھی نہیں الماری میں
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میںصبح بھی خرچ ہوئی رات کی تیاری میں
کتنی مشکل سے ملی مجھ کو کلید در چشماور اب دیکھا تو کچھ بھی نہیں الماری میں
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئےمیں نے بھی کتنے دکھ در و دیوار کو دئے
چہروں کی بھیڑ کاٹتی گزری مری نگاہاور آتے آتے اس کے خد و خال کھو دئے