13 اشعار

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

Ab to ghabrā ke ye kahte haiñ ki mar jā.eñge

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

«اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے

خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داںپر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے

پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہمپہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے

شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤںپر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے

ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پربلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے

آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانیجب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے

نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگزہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے

سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریاچڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے

لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیںاور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے

رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تممہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے

ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیںیاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملاان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں