10 اشعار

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے

Maza thā ham ko jo Lailā se do ba do karte

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے

«مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے

مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے

غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سےمگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے

عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہمتیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے

اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گےتو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے

سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصورکہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے

یقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کشاٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے

نہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازارمقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے

چمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہارتمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے

سراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔتمام عمر گزر جائے جستجو کرتے

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں