11 اشعار

نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا

Na kartā zabt maiñ nāla to phir aisā dhuāñ hotā

نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا

«نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتاکہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا

کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتاکہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا

ابھی کیا سرد قاتل یہ شہید تفتہ جاں ہوتاکوئی دم شمع مردہ میں بھی ہے باقی دھواں ہوتا

نہ ہوتی دل میں کاوش گر کسی کی نوک مژگاں کیتو کیوں حق میں مرے ہر موئے تن مثل سناں ہوتا

عزا داری میں ہے کس کی یہ چرخ ماتمی جامہکہ حبیب چاک کی صورت ہے خط کہکشاں ہوتا

بگولا گر نہ ہوتا وادئ وحشت میں اے مجنوںتو گنبد ہم سے سرگشتوں کی تربت پر کہاں ہوتا

جو روتا کھول کر دل تنگ نائے دہر میں عاشقتو جوئے کہکشاں میں بھی فلک پر خوں رواں ہوتا

نہ رکھتا گر نہ رکھتا منہ پہ یہ دانا مریض غممگر تیرا میسر بوسۂ خال دہاں ہوتا

ترے خونیں جگر کی خاک پر ہوتا اگر سبزہتو مژگاں کی طرح اس سے بھی پیہم خوں رواں ہوتا

رکاوٹ دل کی اس کافر کے وقت ذبح ظاہر ہےکہ خنجر میری گردن پر ہے رک رک کر رواں ہوتا

نہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوقؔ اک گھڑی بھر میںکٹورے کی طرح گھڑیال کے غرق آسماں ہوتا

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں