اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتاپر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا
دیتا دل مضطر کو تیری کچھ تو نشانیپر خط بھی تیرے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا