9 اشعار

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

Judā hūñ yār se ham aur na ho raqīb judā

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

«جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلارہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا

دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافرتو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا

جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضاحروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میںکہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہکہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تکالٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگرنہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا

کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔکہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں