مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
زال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہرمرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے