زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
کلام: عرش صدیقی
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہےزور دریا کا فقط بہنے میں ہے
رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگعافیت اب گھومتے رہنے میں ہے
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہےزور دریا کا فقط بہنے میں ہے
رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگعافیت اب گھومتے رہنے میں ہے