تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
کلام: قتیل شفائی
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہتو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہتو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے