اعتبار نظر کریں کیسے
کلام: باقی صدیقی
اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسے
تیرے غم کے ہزار پہلو ہیںبات ہم مختصر کریں کیسے
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسے
تیرے غم کے ہزار پہلو ہیںبات ہم مختصر کریں کیسے