وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
کلام: محسن بھوپالی
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسمتمام عمر ہے اب یاد یار کا موسم
وہ کیا گیا ہے کہ اب خود پہ اعتبار نہیںاسی کے دم سے تھا قول قرار کا موسم
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسمتمام عمر ہے اب یاد یار کا موسم
وہ کیا گیا ہے کہ اب خود پہ اعتبار نہیںاسی کے دم سے تھا قول قرار کا موسم
ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہااہل ساحل نے تمسخرمیں اڑانا چاہا
سامنا کرنے کی جرات ہی کہاں تھی تم نےہر حقیقت کے عوض تازہ فسانہ چاہا