اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
کلام: محسن بھوپالی
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گاخود سے خود کو منہا کر کے دیکھوں گا
وہ شعلہ ہے یا چشمہ کچھ بھید کھلےپتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گاخود سے خود کو منہا کر کے دیکھوں گا
وہ شعلہ ہے یا چشمہ کچھ بھید کھلےپتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھگزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ
یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہےسفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ