یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
کلام: محسن بھوپالی
یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتےبچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے
جو آنے والے ہیں موسم انہیں شمار میں رکھجو دن گزر گئے ان کو گنا نہیں کرتے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتےبچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے
جو آنے والے ہیں موسم انہیں شمار میں رکھجو دن گزر گئے ان کو گنا نہیں کرتے
بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دنہیں تیرے خواب کی راتیں ترے خیال کے دن
فراق جاں کا زمانہ گزارنا ہوگافغاں سے کم تو نہ ہوں گے یہ ماہ و سال کے دن