سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا
کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا ٹوٹتی شاخ پر تھا ٹھکانا مرا غم نہیں اب ملی ہیں جو تنہائیاں انجمن انجمن تھا فسانہ مرا جو بھی آیا ہدف پر وہ کب بچ سکا چوکتا ہی نہیں تھا نشانہ مرا اک زمانہ کبھی تھا مرا ہم نوا تم نے دیکھا کہاں وہ زمانہ مرا ارض بھوپال سے تھا تعلق کبھی اب تو سب کچھ ہے یہ لاڑکانہ مرا ناتوانی پہ میری جو ہیں خندہ زن ان کو البم پرانا دکھانا مرا میرے جانے سے بہتر ہے محسنؔ کبھی بزم شعر و سخن میں نہ جانا مرا
جس کا درد بٹاؤ گے
جس کا درد بٹاؤ گے اس سے رنج اٹھاؤ گے سب کو دوست بناؤ گے سب کو دشمن پاؤ گے دیوانے کو مت سمجھاؤ! دیوانے کہلاؤ گے دور نہ جاؤ نظروں سے دنیا میں کھو جاؤ گے محفل محفل چھپتے ہو خلوت خلوت پاؤ گے تن آسانی کہتی ہے مشکل میں پڑ جاؤ گے محسنؔ جو سمجھاتے ہو خود کو بھی سمجھاؤ گے