ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
15 جنوری 2026
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
17
سپیکرز
290
سامعین
سپیکرز
شیخ ابراہیم ذوق — مہمان شاعر
شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دہلی کے آخری مغل عہد میں شاعری کو دربار سے عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا۔ ان کی پیدائش اٹھارویں صدی کے اواخر میں دہلی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے حافظ غلام رسول شوق اور بعد ازاں شاہ نصیر دہلوی جیسے نامور اساتذہ سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ذوقؔ نے کم عمری ہی میں اپنی فطری ذہانت، زبان پر قدرت اور محاوراتی سلاست کے باعث اہلِ ادب کی توجہ حاصل کر لی، جس نے آگے چل کر انہیں اپنے عہد کا نمایاں شاعر بنا دیا۔ذوقؔ کا اصل مقام مغل دربار میں اس وقت مستحکم ہوا جب وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استادِ سخن مقرر ہوئے اور بعد میں “ملکُالشعرا” کے منصب پر فائز کیے گئے۔ درباری شاعری میں ان کی مہارت، خاص طور پر قصیدہ نگاری، بے مثال مانی جاتی ہے۔ انہیں سودا کے بعد اردو کا سب سے بڑا قصیدہ گو شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے قصائد میں زبان کی چستی، لفظی شان، محاورے کی صحت اور عروض پر کامل گرفت نمایاں ہے۔ اسی دور میں مرزا غ...