لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ توتجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوںدے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو