چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے
میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہےیہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے
میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہےیہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے