ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق
کلام: امیر مینائی
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق
ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہوکان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق
ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہوکان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق
چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہطرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ
گل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداںحسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ