ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
کلام: امیر مینائی
ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہاسب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے جوانی کیا گئیوہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
ایک دل ہمدم مرے پہلو سے کیا جاتا رہاسب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے جوانی کیا گئیوہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا