جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کلام: امیر مینائی
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میںکہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میںدیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میںکہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میںدیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیںگردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں
سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلادونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں