ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
کلام: امیر مینائی
ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرالام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا
دیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرابہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرالام کا خوب الف مد مقابل ٹھہرا
دیدۂ تر سے جو دامن میں گرا دل ٹھہرابہتے بہتے یہ سفینہ لب ساحل ٹھہرا