مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
کلام: امیر مینائی
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتاوہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتایہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتاوہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھاکبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا
شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھالکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا