ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
6 جنوری 2026
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
18
سپیکرز
255
سامعین
سپیکرز
آرزو لکھنوی — مہمان شاعر
آرزو لکھنوی اردو کے اُن ہمہ جہت اور قدآور شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام سید انور حسین تھا اوروہ 16 فروری 1873ء کو لکھنؤ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر ذاکر حسین ‘یاس’ اور بھائی میر یوسف حسین ‘قیاس’ بھی نامور شعرا تھے، یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی۔ گھر پر عربی و فارسی کی تعلیم پائی اور کم عمری ہی میں شاعری شروع کر دی؛ یہاں تک کہ بارہ برس کی عمر میں مرثیہ کہنے لگے۔ ان کے استاد جلال لکھنوی تھے، جن کی وفات کے بعد دبستانِ لکھنؤ میں آرزو لکھنوی کو ان کا جانشین بھی تسلیم کیا گیا، جو ان کے فنی وقار اور شعری پختگی کا واضح ثبوت ہے۔آرزو لکھنوی کی ادبی خدمات غیر معمولی وسعت رکھتی ہیں۔ انہوں نے غزل، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی، رباعی، نعت، سلام، نظم اور نثر سمیت تقریباً ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی اور کمال حاصل کیا۔ ان سے منسوب تقریباً پچیس ہزار غزلیں اردو شاعری کے سرمائے میں ان کے غیر معمولی فیضان کی علامت ہیں۔ ان کے ا...