آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
کلام: آرزو لکھنوی
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں
بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھرظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں