ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 18 دسمبر 2025

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

مہمان شاعر: مظفر وارثی

27
سپیکرز
288
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

مظفر وارثی — مہمان شاعر

مظفر وارثی اردو ادب کے اُن خوش نصیب شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے عہد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جن کا کلام آج بھی عقیدت اور احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد مظفر الدین صدیقی تھا اور وہ دسمبر 1933 میں میرٹھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے جو بعد ازاں ان کی ادبی شناخت اور تخلیقی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ اگرچہ انہوں نے عملی زندگی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان جیسے ادارے میں ایک ذمہ دار منصب (ڈپٹی ٹریژرر) سنبھالا، مگر ان کی اصل پہچان شاعری، خصوصاً نعت اور حمد کی صورت میں سامنے آئی، جس نے انہیں عام شاعر نہیں بلکہ ایک روحانی آواز بنا دیا۔مظفر وارثی کی شاعری کا امتیاز سادگی، خلوص اور فکری گہرائی ہے۔ انہوں نے غزل، نظم اور فلمی گیت بھی لکھے، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی تخلیقی توجہ نعتیہ اور حمدیہ شاعری پر مرکوز کر دی۔ ان کا کلام محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ محسوس ہوتا ہے، جس میں عقیدت بھی ہے اور سوال...

مکمل تعارف اور کلام ‹