ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
کلام: کیف احمد صدیقی
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں
چمن میں شدت درد نمود سے غنچےتڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں
چمن میں شدت درد نمود سے غنچےتڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں