غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو
کلام: اکبر اللہ آبادی
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھوبہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف
ذرا سی دیر جو ہو جائے گی تو کیا ہوگاگھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھوبہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف
ذرا سی دیر جو ہو جائے گی تو کیا ہوگاگھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گےمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے
کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتےکہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے