آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
کلام: فرحت عباس شاہ
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہےاس کا ایک ایک ستم ظاہر ہے
بے خیالی میں تمھاری ہی طرفمیرے اٹھیں گے قدم ظاہر ہے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہےاس کا ایک ایک ستم ظاہر ہے
بے خیالی میں تمھاری ہی طرفمیرے اٹھیں گے قدم ظاہر ہے