کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
کلام: فرحت عباس شاہ
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سےتمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے
مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئےنظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سےتمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے
مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئےنظر بچا کے ترا نام لے گیا مجھ سے
کہاں میں کہاں ہو تمجواب آیا جہاں ہو تم
مرے جیون سے ظاہر ہومرے غم میں نہاں ہو تم
پھول کی سکھ کی صبا کی زندگیمختصر ہے کیوں وفا کی زندگی
کس نے دیکھا ہے خدا کی موت کوکس نے دیکھی ہے خدا کی زندگی