کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
کلام: کیف بھوپالی
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑککوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑککوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا
تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیادو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیا
جان بہار تم نے وہ کانٹے چبھوئے ہیںمیں ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا