چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے
کلام: راکب مختار
چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہےصاحبِ تخت عزادار سے ڈر جاتا ہے
تُف ہے اس دیدہِ دلیری پہ کہ برسرِ دربارسُورما شام کا بیمار ع سے ڈر جاتا ہے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہےصاحبِ تخت عزادار سے ڈر جاتا ہے
تُف ہے اس دیدہِ دلیری پہ کہ برسرِ دربارسُورما شام کا بیمار ع سے ڈر جاتا ہے