پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے
کلام: راکب مختار
پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئےپسِ غبار مرے شہسوار مارے گئے
جزا کے طور پہ زندہ رکھا گیا مجھ کوسزا کے طور پہ آنکھوں میں تیر مارے گئے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئےپسِ غبار مرے شہسوار مارے گئے
جزا کے طور پہ زندہ رکھا گیا مجھ کوسزا کے طور پہ آنکھوں میں تیر مارے گئے