اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
کلام: راکب مختار
اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہےشام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے
جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھےانشا جی سر پیٹ رہے تھے مایا ہے سب مایا ہے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہےشام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے
جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھےانشا جی سر پیٹ رہے تھے مایا ہے سب مایا ہے