ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
کلام: زہرا نگاہ
ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھااس راہ میں ہر زخم ہمیں راہنما تھا
کیوں گھر کے اب آئے ہیں یہ بادل یہ گھٹائیںہم نے تو تجھے دیر ہوئی یاد کیا تھا
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھااس راہ میں ہر زخم ہمیں راہنما تھا
کیوں گھر کے اب آئے ہیں یہ بادل یہ گھٹائیںہم نے تو تجھے دیر ہوئی یاد کیا تھا