چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
کلام: زہرا نگاہ
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئےسنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے
نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیںتجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئےسنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے
نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیںتجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہمڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم
تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہردیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم