ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
کلام: زہرا نگاہ
ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیںاس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں
جس سے کچھ نہ کہہ پائیں جان گفتگو ٹھہرےجس سے کم ملیں اس کو سب سے بیشتر جانیں
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیںاس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں
جس سے کچھ نہ کہہ پائیں جان گفتگو ٹھہرےجس سے کم ملیں اس کو سب سے بیشتر جانیں
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کیدونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی
دست طلب کچھ اور بڑھاتے ہفت اقلیم بھی مل جاتےہم نے تو کچھ ٹوٹے پھوٹے جملوں ہی پہ قناعت کی
اساں باہُو دی بولی بولدے سانوں پیر فرید دی جاگاساں سچے قول قرار دے ساڈی ستھری صاف دلیل
ساڈا کئیں نئیں جھیڑا جھیڑیا اسی اپنے آپ وکیلاساں راتاں کٹیاں جاگ کے ساڈے روندیاں گزرے سال