آج سوچا تو آنسو بھر آئے
کلام: کیفی اعظمی
آج سوچا تو آنسو بھر آئےمدتیں ہو گئیں مسکرائے
ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھاان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
آج سوچا تو آنسو بھر آئےمدتیں ہو گئیں مسکرائے
ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھاان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے