کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
کلام: کیفی اعظمی
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ
گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنوڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ
گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنوڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئیمیرا چھپر اٹھا گیا کوئی
لگ گیا اک مشین میں میں بھیشہر میں لے کے آ گیا کوئی