اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
کلام: کیفی اعظمی
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشکیوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشکیوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتامری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں